الطاف حسین کا ایک بار پھر ایم کیو ایم کی قیادت سے دستبردار ہونے کااعلان




کراچی: ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایک بار پھر متحدہ کی قیادت سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوے کہا کہ کارکنان کسی دوسرے رہنما کو اپنا قائد چن لیں۔
لندن سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ کہ 40 سال سے گالیاں سن رہا ہوں لیکن اب میں گالیاں نہیں سنوں گا کیونکہ میں آج تحریک کی قیادت چھوڑرہا ہوں، کارکنان مجھ سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ایک جگہ جمع ہوں اور  جس کو چاہیں پارٹی قائد منتخب کرلیں، قیادت چھوڑنے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا، اب پارٹی قیادت کا مزید بوجھ نہیں اٹھاسکتا تاہم میری دعائیں آپ لوگوں کےساتھ رہیں گی، اللہ نے زندگی دی تواپنے چاہنے والوں سے مسلسل رابطے میں رہوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو  بولنے والے طلبہ کے لیےاندرون سندھ میں تعلیم حاصل کرنامشکل ہوگیاتھا لہذا مجبوری کےتحت اپنی تنظیم بنانا پڑی لیکن اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد اخبارات میں تنقید کی گئی اور اس پر اوپرملک دشمنی کا الزام لگایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عامرخان کے لیے کہا گیا کہ یہ ہمارےمہمان ہیں لیکن  اگلے دن ان کومنہ پرکپڑاڈال کرعدالت لےجایاگیا، کیا مہمانوں کےساتھ ایساسلوک کیاجاتاہے اور کیا اداراوں کو مجرم صرف ایم کو ایم میں ہی نظر آتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ ٹاک شوزمیں میرےخلاف باتیں کی جائیں اورکوئی کچھ نہ بولے،کارکنان نےکبھی خودسےنوٹس نہیں لیا، یہ میرےلیےشرم کی بات ہے، کیا ہر معاملے کو میں ہی دیکھوں،میں اب اتنابوجھ نہیں اٹھاسکتا لہذا کارکنان سےدرخواست ہےکہ مجھےمیرےحال پرچھوڑدیں، کارکنان اور عہدیدار آج سے ایم کیو ایم کو ختم کریں اور تحریک کو ترک کرکے انسانیت کی خدمت کریں اور اپنی توانیاں فلاحی کاموں پر صرف کریں جس پر کارکنان نے الطاف حسین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کو پارٹی قیادت نہ چھوڑیں، آپ ہمارے قائد ہیں اگر آپ نہیں تو پارٹی اور تحریک کچھ بھی نہیں۔
ایم کیو ایم قائد نے عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں قوم سے کتنا پیار کرتا ہوں یہ سب کومعلوم ہے، کارکنان کی خاطر25 سال سے جلاوطنی کاٹ رہا ہوں لیکن عمران خان مجھے کہتے ہیں کہ بزدل رہنما ڈر کر لندن بیٹھا ہے، عمران خان نے دھرنے میں کہا تھا کہ تبدیلی آنےتک گھرنہیں جاؤں گا لیکن شادی کے بعد ان کا انقلاب اور کنٹینردونوں غائب ہوگئے، عمران خان کو میرے 2 گھنٹے برے لگتے ہیں لیکن وہ بتائیں کہ میڈیا نے دھرنوں کی اتنی زیادہ کوریج کیوں کی، مجھ پرعمران فاروق اورعظیم طارق کےقتل کاالزام لگایا گیا، میں عمران فاروق کےقتل پررویا تو انہوں نےاس پربھی مذاق اڑایا، ہم پر یہ بھی الزام بھی لگایا گیا کہ پرویزمشرف نےایم کیوایم کاساتھ دیا اور ایم کیوایم اسٹیٹس کو کی پارٹی ہے تاہم انہوں نےمجھ پرجوبھی الزامات لگائےوہ جھوٹے ہیں،عمران خان کومیرےاورزرداری کے جمہوریت کے نام پرجمع ہونے پراعتراض ہے اگر ہم جمہوریت کےنام پرنہیں توکیا مارشل لاکےنام پرجمع ہوں۔

Share on Google Plus

About ikram mayo

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment